بنگلور،29؍جولائی(ایس او نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ نے بروہت بنگلور و مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) کے نام حال ہی میں ایک نوٹس جاری کیا ہے، واضح رہے کہ یہ نوٹس اندرا نگر پہلے اسٹیج کے چھٹویں کراس میں موجود کھیل کے میدان میں اسٹیڈیم کی تعمیر کے بلدیہ کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالت میں داخل کردہ ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران جاری کیا گیا ہے۔ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سبھرو کمال مکھرجی اور جسٹس پی ایس دنیش کی قیادت والی ایک ڈویژن بنچ نے اندرا نگر پہلے اسٹیج لیگ مکینوں کی فلاحی انجمن کی طرف سے دائر کردہ عرضی کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے۔بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے ( بی بی ایم پی) نے جون کی 28 تاریح کو تقریباً پانچ کروڑ روپئے کے تخمینہ والا ایک ٹینڈر طلب کیا تھا جس کے تحت اندرا نگر کے مذکورہ کھلے کھیل کے میدان میں اسٹیڈیم تعمیر کیا جانا ہے، بی بی ایم پی کے اس اقدام پر اعترا ض کرتے ہوئے مکینوں کی انجمن کی جانب سے عدالت میں عرضی داخل کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ بی بی ایم پی کا یہ اقدام کرناٹک پارک، کھیل کے میدان اور کھلے مقامات (تحفظ اور انتظام) قانون1985 کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔پیڑ بمقابلہ کینٹین:ایک اور معاملہ میں بھی ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سبھرو کمال مکھرجی اور جسٹس پی ایس دنیش کی قیادت والی اسی بنچ نے بی بی ایم پی اور دیگر اداروں کے نام نوٹس جاری کیا ہے، یہ معاملہ راجاجی نگر میں چھ ایکڑ کی زمین سے متعلق ہے جس پر اندرا کینٹین کی تعمیر کے لئے درختوں کی کٹائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، بی بی ایم پی کے اس اقدام کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے جس کی سماعت مذکورہ بالا بنچ کر رہی ہے۔عرضی میں عدالت سے گذارش کی گئی ہے کہ بی بی ایم پی کے اس اقدام کو روکنے کے لئے ہدایات جاری کی جائیں۔عرضی گذار گیتا مشرا اور دیگر نے اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہ مذکورہ زمین پر پچھلے ساٹھ سالوں سے خود رو پیڑ پودے اور درخت پیدا ہو کر بڑھے ہیں، یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس زمین کو قدرتی درختوں کے پارک کی حیثیت سے ترقی دینے اور اس کی دیکھ بھال کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے اور اب یہاں اندرا کینٹین کی تعمیر کے لئے راستے ہموار کئے جا رہے ہیں جس کے پیش نظر یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہاں کے درختوں کو کاٹ دیا جائے گا۔